ممبئی، 25؍اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی) ملک میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت میں اضافہ کیرالا کی سماجی کارکن اور ٹیچر سبری مالا جیا کانتھن کے مشرف بہ اسلام ہونے کا سبب بن گیا۔ وہ سبری مالا جیا کانتھن سے اب فاطمہ سبری مالا بننے کے بعد عمرہ کیلئے مکہ مکرمہ پہنچ گئی ہیں جہاں سے جاری کئے گئے ان کے ایک ویڈیو سے ان کے مشرف بہ اسلام ہونے کی خبر عام ہوگئی ہے۔ ان کا یہ ویڈیو ٹویٹر پر تیزی سے شیئر ہورہاہے۔
اس سلسلے میں تمل ناڈو کے صحافی سید علی مجتبیٰ نے اپنی ایک خبر میں بتایا ہے کہ جیاکانتھن سربری مالا نہ صرف ٹیچر ہیں بلکہ نوجوانوں کیلئے ترغیبی خطبات (موٹی ویشنل لیکچر) بھی دیا کرتی تھیں۔ مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ کے سامنے سے جاری کئے گئے اپنے ویڈیو میں انہوں نے بتایا ہے کہ ’’میں نے خود سے سوال کیا کہ دنیا میں مسلمانوں کے خلاف اتنی نفرت کیوں ہے؟ (اس کی وجہ جاننے کیلئے) میں نے ایک غیر جانبدار شخص کے طور پر قرآن پڑھنا شروع کیا ۔ اس کے بعد مجھے سچائی کا علم ہوا اور اب میں خود سے زیادہ اسلام سے محبت کرتی ہوں۔‘‘
انہوں نے مشرف بہ اسلام ہونے پر خوشی اور اطمینان کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’مسلمان ہونا میرے لئے ایک عظیم اعزاز ہے۔‘‘مسلمانوں کو قرآن کریم عام کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے فاطمہ سبری مالا نے کہا کہ ’’آپ کے پاس بہترین کتاب ہے،اسےگھروں میں چھپا کرکیوں رکھا ہے۔ پوری دنیا کو اسے پڑھنا چاہئے۔‘‘الگار سوامی اور کلائیاراسی کے ہاں ۲۶؍ دسمبر ۱۹۸۲ء کو پیدا ہونے والی سبری مالا کی شادی جیا کانتھن سے ہوئی جس سے ان کا ایک بیٹا جے چلن ہے۔ وہ کڈلور ضلع کے کٹو منار گُوڑی کے ایلیری اسکول میں ۲۰۰۲ء میں ٹیچر مقرر ہوئیں۔ بعد میں انہوں نے ۲۰۰۲ء میں یہ کہتے ہوئے سرکاری ملازمت ترک کردی کہ ان کیلئے ملک ملازمت سے بڑھ کر ہے۔ وہ پورے ملک میں یکساں نظام تعلیم کی تحریک میں پیش پیش رہی ہیں اور نیٹ کی مخالفن میں شامل ہیں۔ ان کے مطابق ’’جب سب کا نظام تعلیم ایک جیسا نہیں ہے تو نیٹ سب کیلئے برابر کیسے ہوسکتا ؟‘‘ وہ نیٹ کے خلاف یہ کہتے ہوئے بھوک ہڑتال بھی کرچکی ہیں کہ اسے اس وقت تک نافذ نہیں کیا جانا چاہئے جب تک کہ پورے ملک میں یکساں نظام تعلیم نہ ہو۔ موٹی ایشنل اسپیکر کے طور پر وہ جنوبی ہند کے کم و بیش تمام ہی مقبول ٹی چینلوں کی جانی پہچانی شخصیت ہیں۔